جنگ بدر

جنگ بدر

  وَ  لَقَدْ  نَصَرَكُمُ  اللّٰهُ  بِبَدْرٍ  وَّ  اَنْتُمْ  اَذِلَّةٌۚ-فَاتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تَشْكُرُوْنَ.(۱۲۳)

ترجمہ: 

اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سر و سامان تھے تو اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔




تفسیر: 

{وَ  لَقَدْ  نَصَرَكُمُ  اللّٰهُ  بِبَدْرٍ : اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی۔} یہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے عظیم احسان کو بیان فرما رہا ہے کہ غزوۂ بدر میں جب مسلمانوں کی تعداد بھی کم تھی اوران کے پاس ہتھیاروں اور سواروں کی بھی کمی تھی جبکہ کفار تعداد اور جنگی قوت میں مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ تھے۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور کفار پر فتح و کامرانی عطا فرمائی۔ جنگ بدر 17رمضان 2ہجری میں جمعہ کے دن ہوئی۔ مسلمان 313تھے جبکہ کفار تقریباً ایک ہزار۔ بدر ایک کنواں ہے جو ایک شخص بدر بن عامر نے کھودا تھا، اس کے نام پر اس علاقے کا نام ’’بدر‘‘ ہوگیا۔(یہ علاقہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے )(صاوی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۱ / ۳۱۰)


اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا مدد کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کا مدد کرنا ہے:

             اس آیتِ مبارکہ سے اہلسنّت کا ایک عظیم عقیدہ واضح طور پر ثابت ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ جنگِ بدر میں مسلمانوں کی مدد کیلئے فرشتے نازل ہوئے جیسا کہ اگلی آیتوں میں موجود ہے، جنگ میں فرشتے لڑے، انہوں نے مسلمانوں کی مدد کی لیکن ان کی مدد کو اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے پیارے جب اللہ تعالیٰ کی اجازت سے مدد فرماتے ہیں تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّہی کی مدد ہوتی ہے۔ لہٰذا انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْجو مدد فرمائیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کی مدد قرار پائے گی اور اسے کفر و شرک نہیں کہا جائے گا۔


جنگ بدر 17رمضان 2ھ کو بدر کے مقام پر لڑی گئی چونکہ مکہ کی معیشت کا دارومدار تجارت پر تھاجو شام کے ساتھ تھی۔ اور شام کی طرف جانے کا راستہ مدینہ کے قریب سے گزرتا تھا اس لئے ہر وقت کفار کو یہ خدشہ رہتا تھا کہ مسلمان ہمارا راستہ نہ روک دیں۔

اُدھر مسلمانوں کو یہ خطرہ محسوس ہوتا تھا کہ قریش کے تجارتی قافلے کہیں ہمیں نقصان نہ پہنچا دیں۔اس لئے آنحضور ﷺ قریش کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھتے اور صحابہؓ کے بعض دستے بھی بھیجا کرتے تھے۔ایک دفعہ ابوسفیان تجارت کے بعد شام سے واپس جارہا تھا کہ کسی نے مسلمانوں کی طرف سے لوٹنے اور نقصان پہنچانے کی افواہ گرم کر دی۔یہ خبر مکہ بھی پہنچی جہاں سے ابو جہل کی سرکردگی میں ایک ہزار افراد پر مشتمل اسلحہ سے لیس لشکر بدر کی طرف روانہ ہوا۔جب ابوسفیان کا قافلہ بخیریت مکہ پہنچ گیا تو قریش مکہ نے ابوجہل کوواپس آنے کو کہا مگر ابو جہل نے ایک نہ سُنی اور بدر کے مقام پر پہنچ کر جنگی نقطہ نگاہ سے اس جگہ پر قبضہ کیا جو اہم تھی۔

اُدھر آنحضور ﷺ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دے رکھا تھا۔اُدھر 313  صحابہؓ پر مشتمل ایک لشکر نے مدینہ کو چھوڑا۔ انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ مقابلہ تجارتی قافلہ سے ہے یا اسلحہ سے لیس ایک لشکر کے ساتھ۔مدینہ کے کچھ فاصلہ پر آنحضور ﷺ نے مسلمانوں سے مشورہ کیا۔ مہاجر صحابہ نے وفاداری اور جاں نثاری کا اظہار فرمایا۔ حضورؐ انصار صحابہؓ کی طرف سے انتظار فرما رہے تھے کہ حضرت سعد بن عبادہؓ نے کھڑے ہو کر وفاداری کا اظہار یوں کر کے ایک سنہری تاریخ رقم فرمائی کہ اے اللہ کے رسول! ہم موسیٰؑ کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ تو اور تیرا رب جا کر لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ پائے گا جب تک ہماری نعشوں کو نہ روندے۔

ایک اور روایت میں یہ الفاظ ملتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول! جنگ تو معمولی شئے ہے آپ اگر سمندر میں کودجانے کاکہیں تو آپ اس پر بھی ہمیں تیار پائیں گے۔تب آپؐ نے بدر کی طرف کوچ کرنے کا حکم صادر فرمایا اور دو تین روز کی مسافت کے بعد بدر مقام کے چشمہ کے قریب اسلامی لشکر اُتار دیا۔یہ علاقہ ریتلا تھا۔ پاؤں دھنس دھنس جاتے تھے۔جس سے صحابہ میں گھبراہٹ پیدا ہوئی۔

آنحضور ﷺ اپنے خیمہ میں گئے اور ساری رات یہ دعا کرتے رہے اَللّٰہُمَّ اِنْ اَھْلکْتَ ھَذِہِ الْعِصَابَۃَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِی الْارْضِ اَبَدًا کہ اے اللہ !اگر تو نےاس چھوٹے سے گروہ کو ہلاک کر دیا تو زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ جس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بشارت دی کہ فلاں فلاں دشمن فلاں فلاں جگہ مارا جائے گا۔ الٰہی تقدیر نے اپنا کام دکھلایا۔ تیز بارش ہوئی ۔ریتلا علاقہ مضبوط ہوگیا اور چٹیل میدان میں چکنا پن آگیا جس پر دشمنوں کے پاؤں جم نہ سکے۔

اگلے روز رسول مکرم ﷺ نے مسلمانوں کے لشکر کی صف بندی ایسے رنگ میں کی کہ وہ دوگنی لگنے لگی۔اُدھر ابوجہل نے اپنا ایک نمائندہ مسلمانوں کی تعداد کا تخمینہ لگانے کے لئے بھیجا۔ جس نے واپس جا کر مشورہ دیا کہ اُن سے مت لڑو۔ وہ 313 افراد نہیں وہ تو موتیں ہیں۔ جو مرجانے اور کٹ جانے یا مار دینے اور کاٹ دینے کے موڈ میں نظر آتے ہیں۔

اگلے روز 17رمضان کو حق و باطل کی جنگ کا آغاز ہوا۔انفرادی مقابلے میں عتبہ، ولید اور شیبہ کے مقابل پرحمزہ، علی اور عبیدہ نکلے۔کفار کو ہلاکت نصیب ہوئی اور انہی جگہوں پر وہ مارے گئے جن جگہوں کی نشان دہی اللہ تعالیٰ نے ایک روز قبل خواب میں آنحضور ﷺ کو فرمائی تھی۔

تب آپؐ نے خدا کے حکم پرایک مٹھی بھر ریت دشمنان اسلام کی طرف پھینکی۔ گھمسان کی جنگ جاری تھی کہ اچانک تیز آندھی چلی اور آندھی کا رُخ دشمن کے مخالف تھا۔جو ان کی آنکھوں میں پڑ پڑ کر ان کو اندھا کر رہی تھیں۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کے دائیں بائیں کھڑے دو بچے معوذ و معاذباز کی طرح ابو جہل کی طرف لپکے اور چٹ پٹ میں اسے قتل کر دیا۔

اب تو کفار مکہ کے پاؤں اکھڑ چکے تھے۔ وہ 70مقتول میدان میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور 70کفار کو قیدی بنا لیاگیا جبکہ مسلمانو ں کے 14 یا12  سپاہی شہید ہوئے ۔


کفار نے مکہ پہنچ کر اپنی عورتوں کو مرنے والوں پر بین کرنے سے منع کر دیا تاکہ مسلمانوں کو خبر ملنے کی صورت میں وہ خوش نہ ہوں اور یوں اس یوم الفرقان کی وجہ سے مستقل طور پر مسلمانوں
 کی تمام عرب پر دھاک بیٹھ گئی اور جنگ بدر باقی ماندہ جنگوں(احد۔احزاب وغیرہ) میں کفار کی شکست کا موجب بنی۔


Post a Comment

1 Comments