کرناٹک_ہائی_کورٹ_فیصلہ

کرناٹک_ہائی_کورٹ_فیصلہ

#کرناٹک_ہائی_کورٹ_فیصلہ:

#شریعت_میں_مداخلت_کا_خطرناک_نمونہ



بالآخر، پچھلے کئی مہینوں سے جاری حجاب تنازعے پر کرناٹک ہائی کورٹ نے آج اپنا‌ فیصلہ سنا دیا۔ ویسے تو ١٠/ فروری کو کورٹ نے جو عارضی فرمان جاری کیا تھا، اسی سے اندازہ ہو گیا تھا کہ کس طرح کا آرڈر پاس کیا جاے گا۔ تب کہا گیا تھا کہ شنوائی کے دوران ان تعلیمی اداروں میں حجاب اور دوسرے مذہبی لباس پر پابندی رہے گی جہاں یونیفارم ڈریس کوڈ ہے۔ اور اس سے پہلے ٨/ فروری کو معاملے کی شنوائی کر رہے ایک جج کرشنا ایس دیکشت نے تو کورٹ کے باہر کہہ دیا تھا: "دستور ہند ہمارے لیے 'بھگود گیتا' ہے۔ فیصلے میں قانون اور آئین کو سامنے رکھا جاے گا، جذبات اور احساسات کو نہیں." 


ظاہر ہے جو شخص آئین کو بھی بھگود گیتا کے چشمے سے دیکھ رہا ہو، اس سے بھگوا فیصلے کے سوا اور کیا امید لگا سکتے تھے۔ اور کسی بھارتی کورٹ کا یہ کہنا کہ فیصلے‌ میں جذبات کا نہیں، آئین کا خیال رکھا جائے گا، منافقت اور بے شرمی کی انتہا ہے۔‌ کیوں کہ ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ کس طرح سپریم کورٹ تک نے حقائق اور شواہد کو در کنار کرتے ہوے، لوگوں (ہندو: پڑھیے) کے جذبات کے سامنے خود سپردگی کر فیصلے صادر کیے ہیں۔ خود کورٹ نے اپنے حکم ناموں میں اس کا بر ملا اظہار بھی کیا۔ مثال کے لیے دیکھیے رام مندر کی تعمیر اور افضل گرو کی پھانسی کے فیصلے۔ 


آج کرناٹک ہائی کورٹ نے حکومت کی جانب سے حجاب پر لگی پابندی کو برقرار رکھا اور مسلم طالبات کی عرضیاں مسترد کر دیں۔‌ اپنے فیصلے میں کورٹ نے جو بات کہی، وہ شریعت مطہرہ میں بہت ہی خطرناک قسم کی مداخلت کی کوشش ہے۔ اس کے انتہائی دور رس اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ در اصل، اس فیصلے میں کہا گیا کہ حجاب پہننا اسلام میں ضروری عمل نہیں ہے۔ اس لیے اس پر پابندی، مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کے زمرے میں نہیں آے گی۔ 


حجاب کے متعلق سورہ الاحزاب کی آیت نمبر ٥٩/ میں واضح حکم‌ فرمایا گیا‌ ہے‌۔ چناں چہ ارشاد باری ہے: " يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا"



 ترجمہ: اے نبی، اپنی بیویوں، اپنی صاحب زادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں  پھر انہیں ایذا نہ دی جاے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔ سورہ النور کی آیت نمبر ٣١/ میں بھی اس بابت بڑا واضح فرمان موجود ہے۔


 "الحياء شعبة من الايمان" جیسی احادیث حیا کو ایمان کا حصہ گردانتی ہیں۔ اور ظاہر ہے حجاب اسی حیا کا ایک مظہر ہے۔ تو کیا صرف اس لیے کہ بہت سی مسلم خواتین حجاب کا استعمال نہیں کرتیں، اسے اسلام کے لازمی جزو ہونے سے نکال دیا جائے گا؟ اس منطق کے حساب سے تو روزہ، نماز اور حج و زکوٰۃ بھی اسلام کے ضروری ارکان سے خارج کیے جا سکتے ہیں، اس لیے کہ بہت سے مسلمان ان کی ادائیگی میں تساہل سے کام لیتے ہیں۔ 



یہ تو خیر سے ارکان اسلام ہیں۔ اس لیے ہو سکتا ہے ان کی طرف یہ لوگ جلدی نہ آئیں۔ لیکن ختنہ تو بس سنت ہے۔ ممکن ہے کل سنگھیوں کو اس پر اعتراض ہو۔ تو کیا ہم ختنہ ترک کر دیں گے؟ اعراس کی محفلیں، عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مروجہ پروگرام وغیرہ تو سنت بھی نہیں، مستحب کے قبیل سے ہیں۔ اور خود مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد بھی ان سے بے زار ہے۔ تو کیا ہم آئندہ ان سے بھی دست بردار ہو جائیں گے؟ اس لیے کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر شدید رد عمل ہونا چاہیے‌‌ اور حکومتی مشینری کو متنبہ کرنا ہوگا کہ وہ ہمارے مذہبی اعمال میں مداخلت سے دور رہے۔ گزشتہ کچھ فیصلوں سے تو یہی لگتا ہے کہ اب مسلمانوں کو مذہبی معاملات میں بھارتی کورٹس کا رخ کرنے سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے اور وہاں معاملہ لے جانے سے پہلے بار بار سوچنا چاہیے۔ تا ہم اس فیصلے کو تو اب سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا ہی ہوگا (گو ہمیں خیر کی بہت زیادہ امید نہیں). 


یہ فیصلہ پورے اسلامیان ہند کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ہم نے خدا کی شریعت کو پیٹھ کیا دکھائی کہ دنیا کا طاغوتی نظام ہمیں بتانے لگا کیا ہمارے مذہب کا حصہ ہے اور کیا نہیں۔ مجھے معلوم ہے یہ بات ان مسلمانوں کے دلوں کو بھی کچوکے لگا رہی ہوگی جو صرف ہواے نفس کی اتباع اور مغربی ثقافت کی تقلید میں شریعت طاہرہ جیسی نعمت پر عمل پیرا ہونے سے کتراتے ہیں۔ اس لیے اب مسلمانوں کو ہوش کے ناخن لینا پڑے گا اور حتی الوسع سچی پکی اسلامی زندگی گزارنا ہوگی۔ بہت ہو گئی خدا کی نا‌ فرمانی اور اپنی من مانی۔آخر، کیا وجہ ہے کہ سکھ کی پگڑی اس کے مذہب کا لازمی جزو گردانی جاتی ہے اور مسلمان کا حجاب نہیں؟؟ ہم مانتے ہیں کہ یہ بھارتی سسٹم کی اسلام دشمنی کا شاخسانہ ہے۔‌ لیکن اس حقیقت سے آنکھ نہیں موند سکتے کہ ہماری اکثریت کی دین سے دوری نے بھی اس کی راہ ہموار کی ہے۔ 


مودی حکومت کو ایک چیز خوب ممتاز کرتی ہے۔ اور وہ ہے اس کی منافقت۔ ان کا دوغلہ پن اس معاملے میں بھی کھل کر سامنے آ گیا۔ ٢٠١٩/ میں آیر لینڈ نے پولیس یونیفارم میں حجاب اور پگڑی کی اجازت دی تھی۔ تب مذہبی آزادی کا ڈھونگ رچانے کے لیے بھارت کی مرکزی حکومت نے اس کا استقبال کرتے ہوے، اسے تاریخی کہا تھا۔ لیکن آج جب بھارت میں حجاب پر پابندی کا فیصلہ صادر کیا گیا تو اسی گورنمنٹ نے اسے سراہا اور تاریخ ساز فیصلہ قرار دیا۔ 


اسکولز اور کالجز قائم کرنا اچھی بات ہے اور مسلمانوں کو اس سمت قدم بڑھانا چاہیے۔ مگر یاد رکھیے، یہ اس نفرت کا حل نہیں ہے جو اس وقت بھارت میں ہمارے خلاف ہے۔ چلیے، اسکول تو آپ بنا سکتے ہیں۔ بس اسٹاپ، ریلوے اسٹیشن اور ہوائی اڈے بھی اپنے بنا لیں گے کیا؟ کیوں کہ اسلاموفوبیا تو اس سماج کے نس نس میں سما چکا ہے۔ 




Post a Comment

0 Comments