اور اگر میں یہ کہوں کہ مولانا ابوالکلام آزاد کا صرف یہی ایک صفحہ اردو زبان میں لکھی گئی تمام نعتوں پر غالب ہے،
تو غلط نہیں ہوگا۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی یہ تحریر ان کی کتاب ولادت نبوی کے پہلے صفحہ پر موجود ہے۔
اس تحریر کا مولانا ابوالکلام آزاد نے یہ عنوان دیا ہے ۔
" عروس کائنات کی مانگ میں موتی بھر گئے ۔۔
امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد ۔۔
رات لیلۃ القدر بنی سنوری ہوئی نکلی اور ، خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرِِ ، کی بانسری بجاتی ہوئی ساری دنیا میں پھیل گئی ،
موکلانِ شبِ قدر نے ، مِنْ کُلِّ اَمرِِ سَلَام ، کی سیجیں بچھا دیں ،
ملائیکانِ ملأ الاعلیٰ نے ، تَنَزَّ لُ الْمَلائکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْھَا ، کی شہنائیاں شام سے بجانی شروع کردیں ،
حوریں ، بِاِذْنِ رَبِّھِمْ ، کے پروانے ہاتھوں میں لے کر فردوس سے چل کھڑی ہوئیں ،
اور ، ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْر ، کی میعادی اجازت نے فرشتگانِ مغرب کو دنیا میں آنے کی رخصت دے دی ،
تارے نکلے اور طلوعِ ماہتاب سے پہلے عروسِ کائنات کی مانگ میں موتی بھر کر غائب ہو گئے ،
چاند نکلا اور اس نے فضائے عالم کو اپنی نورانی ردائے سیمیں سے ڈھک دیا ،
آسمان کی گھومنے والی قوسیں آپ اپنے مرکز پر ٹھہر گئیں ،
بروج نے سیاروں کے پاؤں میں کیلیں ٹھونک دیں، ہوا جنبش سے، افلاک گردش سے ، زمین چکر سے اور دریا بہنے سے رک گئے ،
کارخانۂ قدرت کسی مقدس مہمان کا خیر مقدم کرنے کے لئے رات کے بعد اور صبح سے پہلے بالکل خاموش ہوگیا ،
انتظام و اہتمام کی تکان نے چاند کی آنکھوں کو جھپکا دیا ، نسیمِ سحری کی آنکھیں جوشِ خواب سے بند ہونے لگیں ،
پھولوں میں نگہت ، کلیوں میں خوشبو ، کونپلوں میں مہک محوِ خواب ہوگئی ،
درختوں کے مشام خوشبوئے قدس سے ایسے مہکے کہ پتا پتا مخمور ہو کر سر بسجود ہوگیا ،
ناقوس نے مندروں میں بتوں کے سامنے سرجھکا نے کے بہانے آنکھ جھپکائی ، برہمن سجدے کے حیلے سر بہ زمین ہوگیا ۔
غرض یکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اور قطرہ قطرہ ایک منٹ کے لئے غیر متحرک ہوگیا ،
اس کے بعد وہ لمحہ آگیا ، جس کے لئے یہ سب انتظامات تھے ،
فرشتوں کے پرے خوشیوں سے بھرے آسمانوں سے زمین پر اترنے لگے ،
اور دنیا کے جمود میں ایک بیدار انقلاب پوشیدہ طور پر کام کرتا ہوا نظر آنے لگا ،
ملہمِ غیب نے منادی کی کہ افضل البشر ، خاتم الانبیاء ، سرا پردۂ لاہوت سے عالمِ ناسوت میں تشریف لانے والے ہیں ،
رات نے کہا : میں نے شام سے یکساں انتظار کیا ہے کہ اس گوہرِ رسالت کو میرے دامن میں ڈال دیا جائے ،
دن نے کہا : میرا رتبہ رات سے بلند ہے ، مجھے کیوں محروم رکھا جائے؟
دونوں کی حسرتیں قابلِ نوازش نظر آئیں ، کچھ حصہ دن کا لیا ، کچھ رات کا ،
نورکے تڑکے نورعلیٰ نور کی نورانی آوازوں کے ساتھ دستِ قدرت نے دامنِ کائنات پر وہ لعل با بہار رکھ دیا ،
جس کے ایک سرسری جلوے سے دنیا بھر کے ظلمت کدے منور اور روشن ہوگئے ،
سر زمینِ حجاز جلوۂ حقیقت سے لبریز ہوگئی ، دنیا جو سرور وجمود کی کیفیت میں تھی اک دم متحرک نظر آنے لگی ،
پھولوں نے پہلو کھول دئے ، کلیوں نے آنکھیں وا کیں ، دریا بہنے لگے ، ہوائیں چلنے لگیں ، آتش کدوں کی آگ سرد ہوگئی ،
صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی ، لات و منات ، حبل و عزّا کی توقیر پامال ہونے لگی ،
قیصر و کسریٰ کے فلک بوس بروج گر کر پاش پاش ہوگئے ،
درختوں نے سجدۂ شکر سے سر اٹھایا ، رات کچھ روٹھی ہوئی سی ،چاند کچھ شرمایا ہوا سا ، تارے نادم و محجوب ہوکر رخصت ہوئے ،
اور آفتاب شان و فخر کے ساتھ مسرت و مباہات کے اجالے لئے ہوئے کرنوں کے ہار ہاتھ میں ،
قندیلِ نور تھال میں ، ہزاروں ناز و ادا کے ساتھ اُفقِ مشرق سے نمایاں ہوا ،
حضرت عبداللہ کے گھر میں ، آمنہ کی گود میں ، عبدالمطلب کے گھرانے میں ، ہاشم کے خاندان میں اور مکہ کے ایک مقدس مکان میں ،
خلاصہ کائنات ، فخرِ موجودات ، محبوبِ خدا ، امام الانبیا ، خاتم النبیین ، رحمۃ للعالمین
یعنی حضرت محمدِ مصطفی احمدِ مجتبیٰ تشریف فرما بصد عزو جلال ہوئے ۔
سبحان اللہ ربیع الاوّل کی بارہویں تاریخ کتنی مقدس ہے ، جس نے ایسی سعادت پائی ،
اور پیر کا روز کتنا مبارک تھا ، جس میں حضور نے نزولِ اجلال فرمایا :
فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ
( مجموعہ ابو الکلام آزاد : حصہ اول : ص 371 - 372 / عنوان ولادت نبوی )
0 Comments