امام دار قطنی

امام دار قطنی





بغداد کے محلہ کرخ کے پاس " دار القطن"میں 306/ھ میں ایک
 بچہ پیدا ہوا جس کا نام ابو الحسن علی بن عمر ہے۔ نو سال کی عمر میں اس بچے کو علم حدیث حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔
تذکرۃ_الحفاظ میں آتا ہے کہ چند طالب علم اس وقت کے مشہور محدث امام ابو القاسم بغوی کے پاس اکتساب علم کیا کرتے تھے جن کے پیچھے ابو الحسن علی بن عمر بھی لگ جاتے تھے۔

ان طلاب میں سے یوسف القواس خود فرماتے کہ جب ہم امام بغوی کے پاس جاتے تو یہ بھی ہمارے پیچھے پیچھے ہوتے، ان کے ہاتھ میں روٹی ہوتی جس پر سالن رکھا ہوا ہوتا تھا۔ بعض دفعہ اگر ان کو کلاس میں نہ بیٹھنے دیا جاتا تو یہ باہر بیٹھ کر روتے۔

محلہ دار القطن چاہتا تھا کہ یہ ایک عظیم قاری بنے گوکہ تجوید و قرأت میں کمال حاصل تھا جیسا کہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے بستان المحدثین میں لکھا ہے کہ وہ علم نحو اور فن تجوید میں بھی کامل مہارت رکھتے تھے، لیکن ابو الحسن کا جذبہ اور قدرت کی مشیت کہ وہ ایک عظیم محدث امام_دارقطنی کے نام سے مشہور و متعارف ہوا۔

امام دار قطنی کا شوقِ علم اس قدر بڑھا کہ اب محض بغداد تک محدود نہ رہے بلکہ مزید اکتساب علم کے لیے کوفہ ،بصرہ، واسط ،شام ،مصر، خوزستان ،مکہ اور مدینہ وغیرہ کا بھی سفر کیا۔
یہ صحیح ہے کہ ان کے شیوخ بے شمار ہیں پر وہ الگ بات ہے کہ انھوں نے زیادہ تر امام ابو القاسم بغوی سے شرف تلمذ کیا ہے جبکہ تلامذہ میں 
ابونعیم اصفہانی
ابوبکر برقانی
امام حاکم صاحب المستدرک
خلال جوہری
تنوخی
 عتیقی
 قاضی ابوالطیب طبری 
اور حافظ عبدالغنی مقدسی وغیرہ 
جیسے اساطین فن ہیں۔

اسی بنا پر امام ذہبی نے سیر_اعلام_النبلاء میں لکھا کہ
آپ امام ، حافظ ، مجوّد، شیخ الاسلام اور نامور قاری ومحدث تھے، آپ نے اساطین فن کو پڑھایا۔

اسی طرح خطیب بغدادی، علامہ ابن جوزی اور امام سخاوی وغیرہ نے بھی ان کے اوصاف بیان کیے ہیں
اور ان کو جرح و تعدیل کا امام شمار کیا۔

ویسے جب امام دار قطنی کا نام آئے تو سنن دار قطنی کسے یاد نہیں آئے گی لیکن جرح و تعدیل کے تعلق سے ان کی ایک کتاب العلل نام سے کافی مشہور ہے، جس میں امام دارقطنی سے مختلف احادیث کے متعلق کیے گئے سوالات اور ان کے جوابات درج ہیں۔
یہ کتاب انھوں نے زبانی لکھوائی جو سولہ جلدوں میں موجود ہے اور بقول صاحب اختصار علوم الحدیث یہ کتاب العلل اپنے فن میں نادر اور عمدہ ہے، اس کی مثل کوئی کتاب نہیں اور متقدمین کی علل پر جو کتب و تالیف ہیں مثل 
علل لابن المدینی، 
علل ومعرفۃ الرجال لاحمد بن حنبل،
المسند المعلل لیعقوب بن شیبہ،
العلل الکبیرللترمذى،
المسند المعلل للبزار،
العلل لابن ابی حاتم وغیرہ
ان سب میں العلل للبیھقی زیادہ جامع ہے۔

اسی طرح امام دار قطنی کی "الالزامات و التتبع" بھی کافی مشہور ہے جو در حقیقت ان کے دو رسالوں کا مجموعہ ہے۔
پس الزامات میں تو امام دار قطنی نے ان احادیث کو بیان کیا ہے جن کا شیخین کی طے کردہ شرائط پر ہونے کی وجہ سے صحیحین میں مندرج ہونا انسب تھا، اس کے باوجودیکہ شیخین نے ان کو اپنی صحیح میں درج نہیں کیا۔

اور تتبع میں امام دار قطنی نے صحیحین کی ان احادیث کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جو معلول ہیں اور شیخین کی ذکر کردہ شرائط، ان احادیث کو صحیحین میں درج کرنے سے مانع ہیں۔

امام دارقطنی فقہ شافعی پر عمل پیرا تھے مگر جمودی قسم کے مقلد نہیں تھے اس لیے یہ کہنا صحیح ہے کہ صحیحین کے متعلق اسی زمانہ میں مستقل علمی و تحقیقی کام شروع ہوگیا تھا پر وہ الگ بات ہے کہ علامہ ابن حجر عسقلانی نے ھدی الساری میں الالزامات و التتبع کا کافی و شافی جواب دے دیا ہے۔

 چونکہ علامہ عسقلانی پکے قسم کے شافعی فقیہ تھے تو انھوں نے دار قطنی کی تردید میں غلو سے کام لیا جبھی تو کہہ ڈالا "وكان رافضيا خبيثا" حالانکہ کسی رافضی شاعر کا دیوان "دیوان حمیری" زبانی یاد کرنے سے کوئی رافضی نہیں ہوتا۔

 شاید کہ علامہ ابن حجر عسقلانی تک دار قطنی کی فضائل الصحابہ نہیں پہنچی تھی جس میں فضیلت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بزبان علی اور بزبان اولاد علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم احادیث پیش کی ہے اسی طرح ان کے زمانے میں شیعوں کا زور تھا اس کے باوجود وہ حضرت عثمان کی حضرت علی پر فضیلت کو بیان کیا کرتے تھے اگر وہ کتاب پہنچی ہوتی تو وہ ہرگز ایسا نہ کہتے اور اگر فقہی برتری کے لیے کہا تھا پھر تو کوئی نہیں روک سکتا۔

سو چوتھی صدی کی وہ عظیم عبقری شخصیت جو حدیثی خدمات میں سر فہرست ہے، نے پچاس سے زائد تالیفات چھوڑی اور یہ وہ شخصیت ہے کہ باب جرح و تعدیل اور چوتھی صدی کے محدثین کا تذکرہ ان کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا۔

بہرکیف اس نیر تاباں نے 385ھ کو وصال فرمایا اور بغداد میں شیخ معروف کرخی علیہ الرحمہ کے پاس مدفون ہیں۔
✍️ Zmk

Post a Comment

0 Comments