بی جے پی اقتدار میں اویسی کو کھلی چھوٹ کیوں؟*

بی جے پی اقتدار میں اویسی کو کھلی چھوٹ کیوں؟*

 27/10/2020


*بی جے پی اقتدار میں اویسی کو کھلی چھوٹ کیوں؟*





مسلم دانشور اسد الدین اویسی کو لیکر اکثر  یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اویسی سے بی جے پی کو فائدہ ہوگا، اویسی کو بی جے پی کھلی چھوٹ کیوں دیے ہوے ہے؟ لیکن کبھی یہ بھی خیال کیا کہ بی جے پی سے اویسی اور مسلمان دونوں کا فائدہ ہوا ہے.

کانگریس کے زمانے میں سیکولر نیتاؤں نے ہمارے لاکھوں بچے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرا کے انکی زندگی خراب کردی، مسلمان ویسے بھی مر رہے تھے اور ایسے بھی مر رہے ہیں بس مارنے والے کا انداز بدل گیا ہے ایک چھپ کر ہلکا وار کرتا ہے اور دوسرا کھل کر تیز، اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کھلا دشمن بہتر ہے یا چھپا؟

اویسی کو بے جے پی اقتدار میں کھلی آزادی بقیہ سب کو مشکلات کیوں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ دانشوروں کو حیرت میں ڈال دیتا ہے لیکن اسے یوں سمجھئے

بی جے پی ہندوتوا کی سیاست کرتی ہے اور اویسی مسلم قیادت کی، سیاست مضبوط اور دم دار لیڈر چاہتی ہے اور اویسی میں یہ ساری خوبیاں ہیں انکے مخالفین ٹی وی ڈبیٹ میں بھی انکے سامنے نہیں ٹکتے، سنسد میں تقریر دیکھنے والی ہوتی ہے، مسلم قیادت کو ایسا لیڈر آج تک نہیں ملا جو قانونی داؤں پیچ بھی رکھتا ہے اور سیاسی بازیگر بھی ہے.

ساری سیکولر پارٹیاں اس وقت ڈاؤن ہیں وجہ یہ ہے کہ انکی سیاست چمک چکی ہے اگر بی جے پی انھیں کھلی چھوٹ دیتی ہے تو اس کا نقصان ہے جبکہ اویسی کو چھوٹ دینے میں اس کا فائدہ ہے، وہ جانتے ہیں کہ اویسی جتنا مضبوط ہونگے سیکولر جماعتیں اتنی ہی کمزور ہونگی کیونکہ ساری سیکولر پارٹیاں اپنی قوم اور مسلم ووٹ پر ہی سیاست کرتی ہیں، بی جے پی جانتی ہے کہ اویسی راتوں رات اقتدار تک نہیں پہنچ سکتے اس لئے انھیں ٹارگٹ نہ کیا جائے، جبکہ سیکولر پارٹیاں راتوں رات اقتدار حاصل کر سکتی ہیں اس لیے انھیں ہر طرح ڈاؤن کیا جائے، ایسے میں اویسی کی سیاست خود بخود آگے بڑھ رہی ہے کسی کو بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے.

بی جے پی اس سے اپنا فائدہ سمجھ رہی ہے لیکن در اصل فائدہ ہمارا ہو رہا ہے کہ جو مسلمان ستر سالوں سے کسی ایک پلیٹ فارم پر جمع نہ ہوسکا وہ آج اویسی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، اگر سیکولر پارٹیاں اقتدار میں رہتیں تو شاید مسلمانوں کی سمجھ میں اب نہ آتا لیکن اب چھ سالوں میں ہر مسلمان سمجھ رہا ہے یہی پلس پوائنٹ ہے، اللہ بہتر تدبیر کرنے والا ہے آج جیسا بی جے پی سوچ رہی ہے حالات ویسے ہی بنے رہیں یہ ضروری تو نہیں؟ لیکن ہماری قیادت کو ایک بار بال و پر عطا ہوگئے تو ہم تو کامیاب ہوجائیں گے یہ یقینی ہے، ایک بار ہماری تعداد کسی بھی صوبے میں پندرہ سے بیس ایم ایل اے ہوجائے تو مسلمانوں کو اکٹھا ہونے میں دیر نہیں لگے گی.


اور اگر جیسا بی جے پی سوچ رہی ہے ویسا ہی ہوگیا تو بھی ہمارا فائدہ ہے کہ ایک مضبوط پلیٹ فارم ملنے کے بعد مسلمان اگر اقتدار حاصل نہ بھی کر سکے تو حصے دار ضرور ہوجائیں گے.

سیاست میں کوئی کسی کا دشمن نہیں ہوتا، سیاست میں بی جے پی اور کشمیر کی پی ڈی پی ایک ہو سکتی ہیں، شو سینا کانگریس، نیشنل کانگریس ایک ہوسکتی ہیں، سماج وادی، بہوجن سماج وادی، جنتا دل یونائٹڈ، بی جے پی، ایک ہو سکتی ہیں تو مجلس بھی اگر مایاوتی یا کسی اور سے اتحاد کرے تو تعجب نہیں ہونا چاہیے، اس کا فائدہ ہمیں یقینا ہونا ہے جن 24 سیٹوں پر مجلس لڑ رہی ہے وہ مسلم اکثریتی علاقے ہیں، اب اگر وہاں سے بی ایس پی، اوپیندر کشواہا، سماجوادی جنتا دل وغیرہ لڑتیں تو ہمارا نقصان کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا، لیکن اب یہ سارا ووٹ بھی ہمیں ملے گا، اس سے دو فائدے ہونگے

(1) اگر ہمیں ووٹ ملا تو ہماری جیت کنفرم ہے

 (2) اگر نہیں ملا تو ایسی جماعتوں کی اوقات سمجھ آجائے گی اور دوبارہ ان سے اتحاد نہیں کیا جائے گا.

آنے والے سالوں میں بنگال آسام اور پھر یوپی میں چناؤ ہونا ہے، اگر اتحاد کامیاب رہا تو مذکورہ صوبوں میں بھی ہم مضبوط ہونگے اور اگر ناکام ہوا تو یوپی الیکشن میں ہم مایاوتی اور ایسے حلیفوں کو اوقات دکھا دیں گے. سیاست میں مایاوتی سے زیادہ شاید کوئی اور گرا ہو اور وہ کبھی بھی کہیں بھی جاسکتی ہے لیکن مایاوتی جس قدر کمزور ہوئی ہے اگر اسے اپنا سیاسی وقار بچانا ہوا تو وہ یوپی میں بھی مجلس کے ساتھ اتحاد کرے گی، کیونکہ کانگریس، سماجوادی پارٹی سے اتحاد کرکے توڑ چکی ہے اس ہے ان دونوں پارٹیوں میں سے کوئی بھی مایاوتی سے اتحاد نہیں کریں گی،  اگر ایسا ہوتا ہے تو کچھ مزید چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ نیا الائنس سامنے آئے گا اور یہ الائنس کامیاب ہو یا نہ ہو ہمارا ووٹ فیصد بڑھا جائے گا رہے گا، ابھی مجلس یوپی میں اکیلے کامیابی کے جھنڈے نہیں گاڑ سکتی اس لیے  اتحادی چاہیے جو ہمیں دوسرے اسٹیٹس سے ہوکر ہی ملیں گے.


مایاوتی کا خوف


بھیم آرمی يعني آزاد سماج پارٹی اس وقت ملک میں دلتوں کی نئی آواز بن کر ابھری ہے، اس سے سب سے زیادہ نقصان بی ایس پی کو ہے اور یہ مایاوتی چاہے گی نہیں، کیوں کہ بی جے پی کے ساتھ جاکر اسے تحفظ تو مل سکتا ہے لیکن عزت و اقتدار نہیں. اگر بی ایس پی نے وقت رہتے مجلس یا کسی ایسی ہی پارٹی سے اتحاد نہ کیا تو بی ایس پی ختم ہوجائے گی، او بی سی یعنی پچھڑی قومیں یوپی میں بی جے پی کے ساتھ ہیں، اور انکا نائب وزیر اعلیٰ بھی ہے، اب یادو اکھلیش کے ساتھ، بقیہ کانگریس اور کچھ چھوٹی پارٹیاں ہیں جو اپنی قوم کی سیاست کریں گی ، اب بچے مسلمان تو وہ تھوڑے تھوڑے سب کے ساتھ ہیں لیکن مجلس کے آنے سے اس پر بہت فرق پڑے گا، پچھلے سال پرتاپ گڑھ میں مجلس نے उपचुनाव لڑا تھا جس کی وجہ سے بی ایس پی اور کانگریس چوتھے، پانچویں پائیدان پر کھسک گئ تھیں، اب جب مجلس پوری قوت ے ساتھ آئے گی تو بی ایس پی کا کیا ہوگا یہ آپ سمجھ سکتے ہیں، اب بی ایس پی کا مجلس ہی سہارا ہے کیوں کہ مسلم اسی طرح اس کے ساتھ آسکتے ہیں اور کوئی صورت نہیں دکھتی ایسے میں ہمیں فائدہ ہی فائدہ ہے خواہ ہم کم سیٹوں پر لڑیں يا کم سیٹ نکال پائیں، لیکن ووٹ فیصد بڑھتے ہی ہم سے اتحاد کے لئے راہیں ہموار ہو گی، آئندہ پانچ سے دس سال بعد ہم سماجوادی یا کانگریس جیسی پارٹیوں سے اتحاد کرنے کی حالت میں ہونگے اور سیاست میں ہماری اچھی پکڑ ہوگی.


اتحاد کی ضرورت کیوں؟

اتحاد بسا اوقات ہی کامیاب ہوتا ہے در اصل اتحاد ذہنی گیم ہے، اگر کوئی پارٹی اکیلے ہے تو کہا جاتا ہے اسکے ساتھ ہے ہی کون؟ اکیلے کیا کر لیں گے؟ اگر سب اتحاد کر رہے ہیں تو اتحاد لازمی ہے اس سے مقابلہ آسان ہوجاتا ہے اور مخالفین کا جواب دینا آسان ہوتا ہے اور اگر کوئی اتحاد نہیں کر رہا تو آپ اتحاد کرکے مخالفین کے حوصلے کمزور کر سکتے ہیں، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ اتحادی جماعتوں میں ایمانداری کے ساتھ ایک دوسرے کو ووٹ کریں، کیونکہ ہر ایک دوسرے کا ووٹ حاصل کرکے اپنا ووٹ دوسرے کو نہیں دینا چاہتے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ بندہ ہم سے نیچے رہے، اگر واقعی ایک دوسرے کو سپورٹ کریں تو بہت جلد کامیابی یقینی ہے. 

آنے والے وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمارا کسی سے بھی اتحاد کرنا ہمیں مضبوط کرے گا، رہی بات کہ بی جے پی کو فائدہ ہوگا تو جہاں جہاں مجلس نہیں لڑی کیا وہاں بی جے پی کو فائدہ نہیں ہوا؟ مدھیہ پردیش، راجستھان، دہلی اس پر کیا کہیں گے؟ نیز کیا آپ بغیر الیکشن لڑے کبھی کامیاب ہوسکتے ہیں؟ کیا بغیر الیکشن لڑے آپ کی عزت بچی ہے؟ ہمارا تو وجود ہی خطرے میں ہے کیا کسی سیکولر پارٹی نے کچھ کیا؟ کیا ہم نے کانگریس، سماجوادی وغیرہ کے ودھایک بکتے نہیں دیکھے؟ ایسی صورت میں جب آپ کا ووٹ کہیں محفوظ نہیں تو کیوں نہ اپنی قیادت سپورٹ کریں؟ بابری مسجد والے معاملے سارے سیکولر ننگے ہوگئے کیا آپ نے نہیں دیکھا؟ تین طلاق، سی اے اے، این آر سی میں ہم نے لوک سبھا راجیہ سبھا کے مسلم غیر مسلم ممبران کو اور انکی ایکٹیوٹی، غیر ذمہ دارانہ حرکتیں نہیں دیکھیں؟ اگر اس سب کے باوجود آپ کو اویسی کے بجائے کسی اور پر بھروسا ہے تو آپ جانیں، لیکن ہمیں بالکل نہیں ہے.

مرنا ہی مقدر ہے تو پھر لڑکے مریں گے

خاموشی سے مرجانا گوارا نہیں ہم کو

Post a Comment

0 Comments